اسلام آباد (پاک صحافت) وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ملک میں امن و امان کی صورتحال پر اے پی سی بلانے کا اعلان کر دیا اور کہا کہ اگر دہشت گردی ختم نہ ہوئی تو ترقی کا سفر رُک جائے گا۔
تفصیلات کے مطابق امن وامان سے متعلق اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ جو ہو گیا وہ ہوگیا، ہوش کے ناخن لیں، اب آگے بڑھنا ہوگا، پورے پاکستان کی سیاسی قیادت بیٹھے، آرمڈ فورس کی لیڈرشپ کو بھی بٹھائیں گے، اتفاق رائے پیدا کرنا ہوگا۔ شہباز شریف نے کہا کہ افواج کو جتنے وسائل چاہئیں مہیا کروں گا، اگر پاکستان ہے تو ہم سب ہیں، ہم سب کو دہشت گردی کے خلاف متحد ہونا ہوگا، ملک کو قومی یکجہتی کی ضرورت ہے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہبازشریف کا مزید کہنا تھا کہ تین دن پہلے بولان میں دہشت گردوں نے ٹرین کو یرغمال بنایا، سانحہ جعفر ایکسپریس پر پوری قوم اشکبار ہے، 400 سے زیادہ نہتے لوگوں کو یرغمال بنایا گیا۔ واقعہ سے نمٹنے کے لیے سکیورٹی فورسز نے کامیاب حکمت عملی اپنائی، ضرار کمپنی نے مشکل صورتحال میں بہترین کارکردگی دکھاتے ہوئے 339 جانوں کو بچایا۔
شہباز شریف نے 33 دہشت گردوں کو جہنم واصل کرنے پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ پاکستان ایسے حادثات کا متحمل نہیں ہو سکتا، اگر ہم نے دہشت گردی کے ناسور کو ختم نہ کیا تو پاکستان کے وجود کو خطرہ ہو سکتا ہے، امن کیلئے تمام فریقین کو کردارادا کرنا ہوگا۔ 2018 میں دہشت گردی کا خاتمہ ہو گیا تھا، دہشت گردی کےخلاف جنگ میں 80 ہزار شہادتیں ہوئیں، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں معیشت کو تباہ کن نقصان پہنچا، دوبارہ اس ناسور نے سر کیوں اٹھایا ہے؟۔
وزیراعظم نے کہا کہ ہزاروں طالبان کو رہا کیا گیا، طالبان سے دل کا رشتہ بتانے والوں نے طالبان کو چھوڑا، بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے جڑ سے خاتمے تک پاکستان میں مکمل امن نہیں ہوسکتا، چاروں صوبائی حکومتوں اور وفاق کو دہشتگردی کیخلاف اپنا حصہ ڈالنا ہوگا۔