اسلام آباد (پاک صحافت) سپریم کورٹ نے این ڈی ایم اے کی رپورٹ غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے ریمارکس دیے کہ این ڈی ایم اے کے سارے معاملات گڑبڑ ہیں۔ خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے این ڈی ایم اے کی رپورٹ پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کورونا ازخود نوٹس کیس کی سماعت ایک ماہ کے لیے ملتوی کر دی۔
تفصیلات کے مطابق کورونا ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ نجی کمپنی کو این 95 ماسک کی فیکٹری لگوائی گئی، فیکٹری کے لیے ساری مشینری اور ڈیوٹیز کی ادائیگی نقد کی گئی، چارٹرڈ جہاز کے ذریعے مشینری منگوائی اس کی ادائیگی بھی نقد ہوئی۔
واضح رہے کہ چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیا کہ چین میں پاکستانی سفارتخانے کے ذریعے کیوں خریداری کی گئی؟ کیا چین میں پاکستانی سفارتخانہ خریداری کے لیے استعمال ہوتا ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ چارٹرڈ جہاز بھی سفارتخانے کے ذریعے ہی کروایا گیا، کیاچین میں پاکستانی سفیر خریداری ہی کرتے ہیں یا ڈپلومیٹک کام بھی؟ یہ بہت بری صورتحال ہے۔