وزیراعظم کا بجلی 7 روپے 41 پیسے فی یونٹ سستی کرنے کا اعلان

شہباز شریف

اسلام آباد (پاک صحافت) وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ملک میں بجلی کی قیمت میں بڑی کمی کا اعلان کر دیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے گھریلو صارفین کے لیے بجلی کی قیمت میں 7 روپے 41 پیسے اور صنعتوں کے لیے 7 روپے 59 پیسے فی یونٹ کمی کا اعلان کیا ہے۔ بجلی کے نرخوں میں کمی کے حکومتی پیکیج کے حوالے سے تقریب اسلام آباد میں منعقد ہوئی جس میں وزیرِ اعظم شہباز شریف، نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار، وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب، خواجہ آصف، رانا ثناء اللّٰہ اور دیگر وزراء بھی شریک ہوئے۔

تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا جس کے بعد نعتِ رسولِ مقبول صلی اللّٰہ علیہ وسلم پیش کی گئی۔ بعد ازاں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا کہ بجلی کے بل آنے پر لوگوں کے گھروں میں غصہ اور افسردگی کا عالم تھا، ہمیں عام آدمی کی قربانیوں کو نہیں بھولنا چاہیے، قوم کے لیے عید کا تحفہ پیش کر رہا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ تمام گھریلو صارفین کو اوسطاً فی یونٹ بجلی 34 روپے 37 پیسے میں فراہم کی جائے گی، اس وقت گھریلو صارفین کے لیے بجلی کی فی یونٹ قیمت 45 روپے 5 پیسے پر ہے۔

وزیرِ اعظم نے کہا کہ جون 2024ء میں صنعتوں کے لیے فی یونٹ بجلی کی قیمت 58 روپے 50 پیسے تھی، آگے بڑھتے ہوئے ماضی پر بھی نظر ڈالنا ضروری ہے، ہمیں کئی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا۔ شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کو ڈیفالٹ سے بچانے کے لیے دن رات کوششیں کی گئیں، منشور میں کیے گئے وعدے کو پورا کرنے کا وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سنبھالی تو ملک پر ڈیفالٹ کی تلوار لٹک رہی تھی، آئی ایم ایف بات سننے کو تیار نہیں تھا، آرمی چیف اور ان کے رفقا کا معاشی استحکام کے لیے بھرپور تعاون رہا، معاشی استحکام کی راہ میں پہاڑ جیسی رکاوٹیں کھڑی کی گئی تھیں۔

وزیرِ اعظم نے کہا کہ خطے میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں آج بھی پاکستان میں سب سے کم ہیں، شرح سود 22 فیصد سےکم ہو کر 12 فیصد ہوچکا ہے، مہنگائی 38 فیصد سے کم ہو کر سنگل ڈیجیٹ پر آچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ معشیت کی بہتری کے لیے سرجری کرنی پڑے گی، ملکی معیشت اندھیروں کے بجائے اجالوں کی طرف آ رہی ہے، آئی ایم ایف پروگرام کے ہوتے ہوئے کوئی سبسڈی نہیں دی جاسکتی۔ شہباز شریف نے کہا کہ جب تک بجلی کی قیمتوں میں کمی نہیں آئے گی صنعت، تجارت اور زراعت میں ترقی نہیں ہوسکتی، پاکستان میں معاشی استحکام آچکا ہے، اب اڑان بھرنی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے