نوازشریف کے سینٹرل ورکنگ کمیٹی کے اجلاس میں بڑے انکشافات

نواز شریف

لاہور (پاک صحافت) نواز شریف نے سینٹرل ورکنگ کمیٹی کے اجلاس میں بڑے انکشافات اور دعوے کیے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف نے سینٹرل ورکنگ کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1993 میں ہماری حکومت کا تختہ کیوں الٹا گیا؟ آج تک حکومت کا تختہ الٹنے کی وجہ سمجھ نہیں آئی۔ اعجازالحسن کو مانیٹرنگ جج مقرر کیا گیا، میں نے اور مریم نے نیب میں 150 پیشیاں بھگتیں، آپ کو بھی نیب بھگتنا چاہئے، ہم نے بھی بلاوجہ نیب کو بھگتا ہے، ہم سے حکومت چھینی گئی تھی، جسٹس مظاہر نقوی نے جائیدادیں بنائی، مقدمہ ہونا چاہئے، ہم احتساب کی بات کرتے ہیں، احتساب سب کا ہونا چاہئے۔

نوازشریف کا مزید کہنا تھا کہ 5 ارب ڈالر کی پیشکش کے باوجود ایٹمی دھماکا کیا، ملک میں مارشل لا لگا کر مجھے نکال دیا گیا۔ صبح وزیراعظم اور رات کو ہائی جیکر تھا، جعلی مقدمے میں 27 سال کی قید کی سزا سنائی گئی، مجھے سزائے موت دینے کی کوشش کی گئی، مجھے 7 سال کیلئے ملک بدر کردیا گیا۔ ایک صاحب 35 پنکچر کی رٹ لگارہے تھے، چاہتا تھا کہ سب ملکی ترقی میں اپنا حصہ ڈالیں، اقتدار سنبھال کر سب سے پہلے بنی گالا گیا تھا، 15 دن میں بنی گالا کی سڑک بنوائی، عمران خان نے لندن سے آکر دھرنا شروع کردیا، چند دن پہلے ہی عمران خان سے مل کر آیا تھا، کہاں سے اشارہ ملا مجھے سمجھ نہیں آئی، مجھ سے تعاون کا کہا اور ڈی چوک پر دھرنا دے دیا۔

انہوں نے کہا کہ کئی کا خیال تھا کہ لاٹھی چارج ہونا چاہئے، میں نے منع کیا۔ چینی صدر کا دورہ دھرنے کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہوا، چینی صدر نے پاکستان آکر سی پیک کا معاہدہ کیا، چینی صدر نے سی پیک کا تحفہ دیا۔ ہم نے پی ٹی آئی کو خیبرپختونخوا میں حکومت بنانے کا موقع دیا، مجھے تنخواہ نہ لینے پر حکومت سے نکالا گیا، زندگی بھر کیلئے مجھے نااہل کیا گیا، مجھے پارٹی صدارت سے ہٹانے کا فیصلہ کہیں اور سے آیا، نیب کو 6 ماہ میں جعلی مقدمے کا فیصلہ کرنے کا کہا گیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے