اسلام آباد (پاک صحافت) وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ اگر سپریم کورٹ سے ملٹری ٹرائل کے خلاف فیصلہ آیا تو اس پر عمل ہونا مشکل ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بینچ کی تشکیل ہی غیر آئینی اور غیر قانونی ہے، ایسے بینچ کے فیصلےکو کس طرح تسلیم کیا جائےگا؟
تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ ریاست اور حکومت کا موقف واضح ہے، اس لیے مشکل لگتا ہےکہ اگر سپریم کورٹ سے ملٹری ٹرائل کے خلاف فیصلہ آیا تو اس پر عمل ہو سکے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل قومی اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے راناثنا اللہ کا کہنا تھا کہ دو سینیئر ججز نے اعتراض کیا اورکہا کہ جب تک پریکٹس اینڈ پروسیجربل کا فیصلہ نہیں ہوتا یہ غیرقانونی ہے، ان دونوں ججز کو فوری طور پر بینچ سے علیحدہ کیا گیا، پتہ نہیں کس بات کی جلدی ہے، بابا رحمتے نے بھی ایسا کیا، آج وہ عبرت کا نشان ہے۔